تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی | اوراقِ تاریخ میں کچھ دن ایسے ہیں جو برسوں سے زندہ ہیں اور صدیوں تک زندہ رہیں گے۔ اور جن کی روشنی انسانوں کے دلوں میں شعلۂ غیرت اور جذبۂ انقلاب بھڑکاتی ہے۔ ایران کے لئے 11 فروری بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جو نہ صرف ایک ملک کی آزادی کا جشن ہے بلکہ ظلم و استبداد کے خلاف انسانی حریت اور قومی غیرت کا روشن نشان ہے۔
رہبر کبیر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمیٰ سید روح اللہ موسوی خمینی قدس سرہ کی قیادت میں 1979ء کی عظیم تحریک ایک ایسا انقلاب تھا جو صرف حکومت یا اداروں کی تبدیلی نہیں بلکہ دلوں اور ذہنوں کی بیداری تھی۔ عوام نے ظلم و جبر کے خلاف ایک آواز بلند کی، اور پوری دنیا کو دکھا دیا کہ ایک قوم اپنے حق کے لئے کس حد تک متحد اور حوصلہ مند ہو سکتی ہے۔ ہر گلی، ہر محلہ، ہر بازار اس نعرے سے گونج رہا تھا: “آزادی! خودمختاری! اسلامی اصولوں کی حفاظت!”۔ نوجوانوں کی آنکھوں میں نور غیرت، بزرگوں کے دلوں میں عزم اور خواتین کی دعاؤں میں حوصلہ تھا۔ ہر انسان اپنے وطن کی آزادی کی خاطر اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔
ایران کی فضا اُس وقت محض شور و غل کی نہیں، بلکہ جذبۂ انقلاب اور غیرت کی گواہ تھی۔ ہر نوجوان، ہر طالب علم، ہر عام شہری ایک ہی نعرے میں متحد تھا: “نہ ظلم! نہ استبداد! بس آزادی!”۔ یہ نعرہ صرف زبان پر نہیں، بلکہ ہر قدم، ہر عمل اور ہر قربانی میں جھلک رہا تھا۔ ایرانی عوام نے دکھایا کہ آزادی حاصل کرنے کے لئے یکجہتی، حوصلہ اور شعور لازمی ہیں۔
آج بھی جب ہم اس دن کی یاد مناتے ہیں، تو یہ دن صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کے لئے ایک روشن مشعل ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک مسلسل جدوجہد ہے، ایک شعوری اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ایران آج بھی اپنے عوام کی یکجہتی، علمی ترقی اور قومی خودمختاری کے ذریعہ اس تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر منصوبہ، ہر سماجی اور سیاسی قدم 11 فروری کے جذبے کا تسلسل ہے۔
آزادی کے حقیقی معنی صرف سیاسی یا جغرافیائی حدود میں نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، انسانی حقوق، اقتصادی استحکام اور روحانی ترقی میں پوشیدہ ہیں کہ ایک آزاد قوم وہ ہے جو نہ صرف اپنی زمین کی حفاظت کرے بلکہ اپنے شہریوں کو شعور، علم اور اخلاقی اصول بھی سکھائے۔ یہی شعور ہر نسل کو اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے قابل بناتا ہے۔
یہ دن سبق ہے کہ آزادی کے حصول کے لئے قربانی لازمی ہے۔ قربانی صرف خون دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ حوصلے، استقلال، وقت، علم اور شعور کی قربانی ہے۔ ایرانی عوام نے یہ سبق عملی طور پر دکھایا اور ہمیں بتایا کہ آزادی کے لئے ہر دور میں یکجہتی، حوصلہ اور بصیرت لازمی ہیں۔
11 فروری کا دن نہ صرف ایران بلکہ دنیا کے ہر آزاد انسان کے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ حقیقی آزادی، عزت اور وقار کا حصول ایک مسلسل جدوجہد ہے، اور ہر قوم کی ترقی اور خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے لوگ اپنے وطن سے محبت، شعور اور اخلاقی جذبے کے ساتھ جڑے ہوں۔ یوم آزادی 22 بہمن (11 فروری) ایک چراغ ہے جو ماضی کی قربانیوں کی روشنی، حال کے شعور اور مستقبل کے خوابوں کو روشن کرتا ہے۔
یہ دن یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ حقیقی انقلاب صرف خیالات کا نام نہیں، بلکہ عمل، قربانی اور جذبے کا نام ہے۔ ہر ایرانی نوجوان، ہر طالب علم اور ہر شہری آج بھی اس نعرے کو زندہ رکھے ہے: “آزادی ہماری جان، ہمارا حق، ہمارا نعرہ ہے!”۔ یہی جذبہ آج بھی ایرانی عوام کے دلوں میں زندہ ہے، اور یہی جذبہ ہر آزاد انسان کے لئے مشعل راہ ہے کہ آزادی کبھی کسی کو بطور تحفہ نہیں ملتی، بلکہ ہر دور میں بیداری، قربانی اور غیرت کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔









آپ کا تبصرہ